ہر ایک مراد اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ بھی ہے جو ان معاملات میں ملوث رہی ہے۔ 

سینئر لیگی رہنما محمد زبیر کا دعویٰ

اسلام آباد  ۔ 19 دسمبر2020ء) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے سوال کیا گیا کہ مریم نواز کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس کچھ اور ویڈیوز بھی موجود ہیں،ان ویڈیو میں ایسا کیا ہے جو اب تک نہیں دکھائی جا رہی اور وہ کب منظر عام پر لائی جائیں گی۔جس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بالکل ہمارے پاس ویڈیوز موجود ہیں اور ہم ہر ایک کو شرمندہ کریں گے، ہم بتائیں گے کہ کیسے کسی کو نا اہل کیا جاتا ہے۔

لیگی رہنما سے سوال کیا گیا کہ ہر ایک سے کیا مراد ہے؟،جس کے جواب میں محمد زبیر نے کہا کہ جو جو بھی ان معاملات میں مداخلت کرتے رہے۔ان میں ہماری عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ بھی شامل ہے۔تاہم میں کھل کر نہیں بتاؤں گا کہ ویڈیو کس کے حوالے سے ہیں۔میں پہلے سے اتنا نہیں بتا سکتا،کچھ چیزیں ہمیں بھی پرائیویٹ رکھنی ہیں۔

اس سے قبل سینئر صحافی عارف حمید بھٹی نے کہا تھا کہ مریم نواز کے دو طاقتور لوگوں کی 6 غیراخلاقی ویڈیوزہیں، مریم نوازان کو چلائے گی نہیں، کیونکہ ان کو کہا گیاایک ویڈیوکے بدلے 10 چلائیں گے، ان کی ویڈیو کے بدلے ایسی ویڈیو چلائی جائے گی کہ سیاستدانوں کو ٹوپی والا برقع پہننا پڑے گا۔


انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں اپنے تجزیے میں کہا کہ مریم نواز شریف نے یہ بات بالکل ٹھیک کہی ہے کہ ان کے پاس ویڈیو ہے، ایک ویڈیو نہیں بلکہ 6 سے زیادہ ویڈیوز ہیں،جو کہ خوفناک بھی ہیں۔ مریم نواز نے خود کہا کہ ویڈیو کبھی دفن نہیں ہوتی۔ ان ویڈیوز کی چار، چار کاپیاں پاکستان، لندن، اور امریکا میں پہنچ چکی ہیں۔یہ بات میں پہلے دن کہہ رہا ہوں جب انہوں نے مرحوم جج ارشد ملک کی ویڈیو دکھائی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ایسی غیراخلاقی ویڈیوز ہیں کہ میں دکھا نہیں سکتی۔یہ ویڈیو ایک دو طاقتور ترین لوگوں کی ہیں ، میرا چیلنج ہے کہ کوئی نیشنل ٹی وی چینل ان کو دکھا نہیں سکتا ، ان ویڈیوز کوروک کون رہا ہے؟ اس کے بدلے میں دکھایا گیا ہے یہ ہے تمہارا اصل چہرہ، ایک ویڈیو دکھاؤ گے تو 10 آئیں گے۔ مجھے پتا ہے نوازشریف کے پاس ویڈیوز کس کس کی ہیں، لیکن یہ ظالم بعد میں مجھے کہیں گے کہ ثبوت دو، ویڈیو بناتا کوئی ہے ، جاتی کس کے پاس ہے، لیکن ہم خبر دینے والے ملزم بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیکن مریم نواز ان ویڈیو کو نہیں چلائیں گی، کیونکہ اس سے اگلے دن ایسی ویڈیو چلائی جائے گی کہ کچھ سیاستدانوں کو ٹوپی والا برقعہ پہننا پڑے گا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post